Skip to content
 

الوداع عقیل یوسف

ہمیشہ کی طرح آج بھی میں نمازِ جمعہ کے لیئے مسجد پہنچا لیکن واپسی ویسی نہ تھی جیسی ہمیشہ ہوتی ہے۔ اگرچیکہ مسجد وہی، امام وہی اور خطبہ بھی کم و بیش وہی۔ کچھ لکھا ہوا کچھ رٹا ہوا جو تھوڑے بہت رد و بدل کے ساتھ برسہا برس سے سے دوہرایا جا رہا ہے۔ جسے لوگ سر دھن کر سنتے ہیں ، بے خیالی میں کہیں کہیں سر ہلا بھی دیتے ہیں بلکہ ہلاتے ہی رہتے ہیں ۔ کبھی ایک آدھ جملے پر توجہ مرکوز ہو جاتی ہے تو ان کے اپنے ذہنوں میں بے شمار خطبے جاری ہو جاتے ہیں جن کے خطیب بھی وہی اور سامع بھی وہی۔
امام جب خطبہ کے اختتامی دعائیہ حصے پر پہنچے تو سبھی نے عادتاً آمین کے لیئے ہاتھ اُٹھا دیئے ۔ میرے بھی ہاتھ اٹھ گئے ۔ یکلخت میری توجہ ایک دعائیہ جملے پر مرکوز ہوگئی او ر میرے ہاتھ رُک سے گئے۔ ذہن بغاوت پر اُتر آیا۔ امام صاحب جھوم جھوم کر " اللھم دمر الیہود والنصری" ( اے اللہ ۔ یہود و نصٰرٰی کو برباد کردے ) پکار رہے تھے اور خالی الذہن مقتدی پورے جوش و خروش سے آمین کہے جا رہے تھے اور میری کیفئت عامر عثمانی کے الفاظ میں کچھ یوں تھی کہ :
زبان و دل محوِ کشمکش ہیں کسی میں بھی حوصلہ نہیں ہے
دُعا شریک ِ زُباں نہیں ہے زُباں شریکِ دعا نہیں ہے

میرے دماغ میں ایک احتجاجی ہلچل تھی زبان کو آمین کہنے میں تامّل تھا ۔ یہ بغاوت اُس امام کے خلاف کسی ذاتی رنجش کی بنا پر نہیں تھی بلکہ اُس نظام کے خلاف تھی جس کے پس منظر میں ایک پوری قوم ایک قانون اور ایک سماج بول رہا تھا۔ میں ایک معمولی انسان ہوں ۔ میری حیثیت یہاں پر پورے چوبیس سال گزار چکنے کے بعد بھی ایک اجنبی کی ہے۔ یہاں مجھے کہتے بھی اجنبی ہی ہیں۔ میرے لیئے تو امام اور اس کا ملک آج بھی اتنا ہی غیر ہے جتنے کہ وہ لوگ جن کے حق میں امام بد دعائیں دے رہا تھا۔ میں نہ سیاسی قیادت کا حامل ہوں نہ کوئی کجکلاہ۔
بحیثیت ایک معمولی اجنبی انسان کے میرے لیئے دو غیروں کے درمیان کون بہتر ہے اور کون کم تر ؟ کون صحیح ہے اور کون غلط؟ ۔ یہ فیصلہ کرنے کے لیئے سوائے اس کے اور کیا کسوٹی ہو سکتی ہے کہ میرے ساتھ دونوں کے رویّوں کا فرق دیکھوں؟ اس معیار پر جب دونوں کو پرکھتا ہوں تو دل گواہی دیتا ہے کہ ذاتی طور پر تو میرے لیئے قران و حدیث کی روشنی میں یہود و نصاری پر لعن طعن کرنے کا جواز نکلتا ہے لیکن اجتماعی طور پر اس طرح آمین کہہ کر اس ملک اور قوم کی اخلاقی تائید کرنا میرے لیئے ہرگز لازمی نہیں جس کا اپنا کردار قانون اور سماج ان قوموں سے ہرگز بہتر نہیں جن کے حق میں یہ بد دعا کی جا رہی ہے۔

میرے ذہن پر میرے دوست عقیل یوسف کی واپسی کے غم کا بوجھ ہے جس کا برسوں ساتھ رہا ہے۔ اس کے اس دیوان خانے کا سامان پیک ہوتا ہوا دیکھ کر اپنی بے بسی اور لاچاری پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔ جس کے دیوان خانے میں ہم نے بے شمار نشستیں کیں۔ ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹے ۔ فکری اور عملی نظام کے نقشے بنائے ۔ تحریک کی منصوبہ بندیاں کیں ۔ بے شمار علمی و ادبی موضوعات پر کھل کر ایک دوسرے کی تائید و مخالفت کی ۔ آج نہ صرف اس دیوان خانے کا سامان پیک ہو رہا ہے بلکہ ایک ہنستے بستے خاندان کا برسوں کا جمایا ہوا سامان بھی ہراج کی طرح معمولی داموں فروخت ہو رہا ہے۔ اس صدمے سے ہزاروں گزر چکے ہیں آج عقیل یوسف گزر رہا ہے اور کل میں اور کئی دوسرے گزریں گے۔ یہ ایک معمولی واقعہ نہیں۔ یہ نقصان ایک عقیل یوسف کا نہیں۔ یہ سانحہ ایک پوری امت اور ایک پوری تہذیب کا ہے۔ یہ خروج عقیل یوسف کا نہیں حقوقِ انسانی کا خروج ہے جس کا شکار مجھے اور آپ کو بھی ہونا ہے۔

میں سوچتا ہوں اگر عقیل یوسف امریکہ یا یورپ کا رخ کرتا جو یہود و نصاری کے گڑھ ہیں تو کیا آج اسے یوں بے بس و لاچار ایک پناہ گزین کی طرح ملک چھوڑنے کی نوبت پیش آتی؟ ہرگز نہیں ۔ وہ قومیں عقیل یوسف جیسے انسانوں کی قدر کرتیں۔ اگراُس نے اپنی جوانی کے قیمتی ترین 26 سال وہاں وقف کیئے ہوتے تو صلے میں اسے وہاں تا حیات سر چھپانے کا ٹھکانہ ملتا ۔ اس کے بچے یہاں پیدا ہو کر اور بڑے ہو کر بھی اجنبی ہیں اور جہاں لوٹ رہے ہیں وہاں بھی اجنبی ہی رہیں گے ۔ لیکن اگر وہ امریکہ یا یورپ کا رخ کر تا تو نہ صرف وہ بلکہ اس کے خاندان کا ہر فرد وہاں کا ایک عزت دار شہری ہوتا۔ وہ نوکری سے سبکدوش ہوتا تو اسے کاروبار کی سہولت فراہم ہوتی ورنہ کم از کم ایک وظیفہ میسر ہوتا جو اس کے لیئے پوری خود داری کے ساتھ جینے کا سہارا ہوتا۔ اس کی عزتِ نفس پر کبھی آنچ نہ آتی۔ حقوقِ انسانی کے حصول میں اس کے ہندوستانی ہونے ، مسلمان یا کسی بھی مذہب کا ہونے سے کوئی فرق نہ پڑتا۔ اس کے لیئے وہی قانون اور وہی انصاف ہوتا جو اس ملک کے اصلی باشندوں کے لیئے ہے۔ وہ قومیں عقیل یوسف کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتیں اور اس کے وجود کو اپنے ہم وطنوں کے حق میں رزق کے اضافے کا ذرئعہ سمجھتیں نہ کہ رکاوٹ ۔ عدالت کے دروازے کبھی اسے اپنے آ پ کو مقامی زبان سے نا واقفئت کی بنا دوسرے اور نچلے درجہ کا انسان محسوس کرنے پر مجبور نہ کرتے۔

یہ کتنی بڑی تاریخی محرومی ہے کہ اس کے اپنے مسلمان ممالک وطنیت پرستی میں ایک برہمن سے زیادہ سخت رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور وہی یہود و نصاری جن کو ان کے اما م خطبوں میں بد دعائیں دیتے ہیں اسلام کے اصول و اخلاق اپنا کر ہم جیسے معمولی انسانوں کو انسانیت سے نواز رہے ہیں۔ مصلح الدین سعدی اور عقیل یوسف جیسے بے شمار ہیرے جن کی علم و دانش نے ہزاروں کی سوچ کے دھارے موڑ دئیے یا موڑ سکتے ہیں اور جن کی علم و دانش اس ملک کے دین و مذہب کے عین مطابق ہونے کے باوجود ان کی قیمت یہاں کے ایک اقامہ کی قیمت سے زیادہ نہیں ہے۔ بالاخر انہی یہود و نصاری نے ان ہیروں سے اپنے ترقی کے خزانوں کو سجا لیا یہ جانتے ہوئے بھی ان کا تعلق نہ ان کے مذہب سے ہے اور نہ ان کے کلچر سے۔

حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا تھا کہ حکمت مومن کی کھوئی ہوئی میراث ہے جہاں ملے چُن لو۔ مومن ممالک نے وطنیت میں حکمت تلاش کی اور یہود و نصاری نے فرد اور صلاحئت میں حکمت ڈھونڈھی چاہے وہ چاہے جس ملک ، جس مذہب ، جس رنگ اور جس کلچر میں ملے۔

خطبہ جاری رہا نہ جانے امام صاحب کیا کیا دعائیں اور بد دعائیں کرتے رہے۔ میرا ذہن ایک جنگ میں محاذ آراء تھا میرا وجود زخموں سے چور محسوس ہو رہا تھا میں نے اللہ تعالی کے حضور معذرت و استغفار طلب کی کہ میں اس منبر کی صدا پر آمین نہیں کہہ سکتا جس کا اپنا رویہ انسانئت کے حق میں اس کے دشمن سے زیادہ بہتر نہیں ہے۔ بوجھل ذہن کے ساتھ نماز ادا کی اور گھر لوٹ آیا۔

بات چونکہ عقیل یوسف کے حوالے سے ہو رہی ہے اس لیئے آئیے کچھ ان کی شخصیت پر بھی گفتگو ہو جائے ۔ ان پر جب بھی کچھ لکھنے کا ارادہ کیا تو مشکل یہ آن پڑی کہ عقیل یوسف کی شخصیت کا کس حوالے سے تعارف ہو؟
شناخت کے کس خانے میں انہیں فِٹ کیا جائے؟
اتنے برسوں میں نے انہیں ہر رنگ میں دیکھا۔ علمی چشمک سے لے کر رنگین شاعرانہ مزاجی تک۔ اس لیئے ان کی شخصیت کو ایک محدود خانے میں فِٹ کر دینا ناانصافی ہے۔ مزاج شاعرانہ لیکن کبھی کوئی شعر نہیں کہا ۔ کاش یہ شاعر ہوتے اور میں ان کے اصنافِ سخن کو میر و غالب یا اقبال کے آگے یا پیچھے لا کھڑا کرتا جیسا کہ وداعی تقاریب میں اکثر مقررین کرتے ہیں۔ اور اگر ان کا کوئی کلام ہوتا تو ان کے کلام کو صدی کا بہترین انتخاب قرار دیتا اور دیکھتا کہ میرا کوئی کیا بگاڑ لے گا؟ لیکن آپ کی بد نصیبی اور شاعروں کی خوش نصیبی سے یہ شاعر نہیں۔

بے شمار افسانوں اور ناول کے پلاٹ جیسے ان کی گھٹی میں پڑے ہیں جب ماضی کے واقعات سناتے ہیں تو انداز ایک دلچسپ جاسوسی یا طلسمی ناول کی طرح ہوتا ہے لیکن کبھی لکھا نہیں ۔ کاش یہ لکھتے اور آج انہیں ہم رضیہ بٹ، ابنِ صفی یا ممتاز مفتی وغیرہ کی صف میں لا کھڑا کرتے۔

فلسفہ ان کی فکر بلکہ ہر جملے میں رچا بسا ہے جب اس موضوع پر گفتگو کر تے ہیں تو فرائیڈ ۔ ناٹشے اور خلیل جبران سب ان کے جیران لگتے ہیں لیکن کبھی فلسفے کو کتاب بند نہیں کیا ۔ دین اور اقامتِ دین ان کی رگ رگ میں سمائے ہوئے ہیں لیکن کبھی مولویت کا الزام اپنے سر نہیں لیا ۔ دین پر بڑی گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کا ہر درس یادگار ہوتا ہے لیکن کبھی فتوؤں کی زبان میں گفتگو نہیں کی۔ اپنی رائے پر اصرار، بحث یا حجت نہیں۔
مزاج انتہائی قلندرانہ ، عادات و اطوار میں ولیوں جیسی قناعت توکل، حِلم و متانت اور تصوف پر جب گفتگو کرتے ہیں تو بے اختیار بیعت کر کے سلوک کے منازل روزانہ ان کے گھر سے شروع کرنے کو جی چاہتا ہے۔ فقرِ بے نیازی انہیں مشائخیت اختیار کرنے سے باز رکھتی ہے ورنہ ممکن تھا کہ میں ان کے غیاب میں ان کے سلسلے کی خلافت کا حقدار ہونے کا دعوی پیش کر دیتا ۔

ان کی شخصیت میں کچھ تضادات بھی ہیں۔ جملے اتنے پیارے کہ قلم چومنے کو جی چاہے۔ میں نے بڑے فخر سے ان کے کئی جملے بارہا quote بھی کیئے ہیں لیکن Writing پرائمری کے بچوں کی طرح کیڑے مکوڑوں جیسی جسے دیکھ کر ہر لفظ کی دس بار تختی کروانے کو جی چاہے۔

حیدرآیادیوں پر چوٹ کر کے مزا لیتے ہیں لیکن جنہیں عزیز رکھتے ہیں وہ سارے حیدرآبادی ہیں۔
یوسف ہاشمی اور خورشید رضوی سے لے کر سرور عزیز تک ، جب تک یہ جدہ میں رہے حیدرآبادیوں کی ہمسائیگی ان کے نصیب میں رہی۔ محفلوں میں شمال اور جنوب کی زبان، زبان دانی اور طور طریق پر جب بھی نوک جھونک ہوئی یہ شمال اور جنوب کے درمیان ایک پُل کا کام کرتے رہے ۔ شائد اسی لیئے نعیم جاوید جیسے کچھ حیدرآبادیوں نے ان سے حیدرآباد میں سکونت اختیار کر نے کی درخواست کر دی جو کہ میری اجازت کے بغیر تھی اگر یہ قبول کر لیں تو میرے لیئے باعثِ مسرت بلکہ باعثِ فخر ہوگی۔

یہ چائے کی دعوت دیتے ہیں اور ہمیشہ وائے پہلے پیش کرتے ہیں ۔ سادہ مگر ایسی پر لطف کہ مرغن پُر اہتمام پکوان ان پر قربان۔ یہ عمر کے اکسٹھ یا باسٹھ کے درمیان میں ہیں لیکن کہیں سے بھی سٹھیائے ہوئے نہیں لگتے۔ اختلافِ رائے پیش کرنے کا فن بانکپن سے بھر پور ہے۔ مخالف ہمیشہ دوبارہ ملنے کی خواہش لے کر لوٹتا ہے۔ یہ ان کی شخصیت کا تضاد ہے یا ظرف کہ اختلاف الرائے کو مسکرا کر قبول کرتے ہیں ۔ جہاں کوئی نیا خیال ذہن میں کوندتا ہے فکر کی شمع روشن ہوتی ہے فوری سگریٹ جلا لیتے ہیں ۔ ان کی فکر کو زندہ رکھنے میں Rothmans کا بڑا ہاتھ ہے۔

ادب میں مقصدیت کے زبردست قائل ہیں ۔ اس سلسلے میں دلائل سے بھرپور مضامین بھی انہوں نے لکھے۔ ہر مضمون میں معلوماتی مواد اور تحقیق کے ساتھ ساتھ ادبی چاشنی ضرور بھر دیتے ہیں ۔ کبھی اپنی حیثیت کو ادیب کے طور پر تسلیم کروانے کی کوشش نہیں کرتے ورنہ کسی ساہتیہ اکیڈمی یا انجمنِ اردو سے ایوارڈ و انعام حاصل کرنا ان کے لیئے نا ممکن نہیں تھا۔ حال ، ماضی اور مستقبل پر ان کی بڑی گہری نظر ہے۔ مطالعہ وسیع ہے ۔ سیاست، معاشرت، معاشیات اور تحریکات پر ان کے تجزیئے اور تبصرے اتنے حقیقت آمیز ہوتے ہیں کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ انہیں صحافی کہا جائے یا دانشور یا محقق کہا جائے کہ مورخ۔ حتی کہ جادو ٹونے ، سحر اور خواب کی تعبیر پر بھی ان کی معلومات جان کر سوچنا پڑتا ہے کہ یہ عالِم ہیں کہ عامِل۔ ایک بہترین کالمسٹ بن سکتے ہیں لیکن شائد طارق غازی کو دیکھ کر سبق حاصل کر لیتے ہیں ۔ معاشیات پر بہترین نکتہ داں ہیں لیکن قلم بند نہیں کرتے ۔ شائد ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی اور ڈاکٹر اوصاف احمد کی نوکری کا خیال آجاتا ہے۔ بار ہا ان سے درخواست کی کہ اپنے کاغذات کے ڈھیر سے ان بے شمار مضامین کو الگ کیجیئے جن میں دانش و حکمت کے خزانے بھرے پڑے ہیں ۔ لیکن کچھ کاہلی ، کچھ بے نیازی اور کچھ انکساری نے اتنے سال نکال دیئے اب پتہ نہیں کتابوں اور کاغذوں کے ڈھیر میں چُھپے ہوئے ان مضامین کا کیا حشر ہوگا؟

میں پھر ایک بار درخواست کرونگا کہ ان مضامین کو زندگئ نو، دعوت ، یا پھر ہندوستان کے دیگر فکر آمیز رسائل میں شائع کر وایا جائے تا کہ وہ حقیقی قارئین تک پہنچیں ۔ بارہا ایسا ہوا کہ آپ نے مضامین پڑھے جب صاحبِ ذوق قارئین نے مضمون کی کاپی مانگی تو آپ نے مضمون کو فیر کرنے کی مہلت مانگی ۔ نہ وہ مضمون کبھی فیر ہو سکا اور نہ اصحابِ ذوق اس سے مستفید ہوسکے۔ آپ کے پاس مضامین کا ایسا منبع ہوتا ہے کہ ایک مضمون ختم نہیں ہوتا اسے پیش کرتے ہوئے اسی دوران ایک دوسرا مضمون ذہن میں جنم لے چکا ہوتا ہے۔ پھر اس کی تحقیق میں لگ جاتے ہیں ، کتابیں جمع کرتے ہیں کیونکہ با ذوق ہیں اس لیئے پڑھ لینے کے بعد کتاب واپس کرنا بھول جاتے ہیں۔ میرے نزدیک با ذوق وہ ہے جو کتاب مانگتا ہے اور بے ذوق وہ ہے جو پڑھ کر واپس کر دیتا ہے۔ پڑ دادا حافظ وجیہ الدین پٹھان کوٹ کے مجاہدین میں شامل تھے جن کا ذکر مولانا علی میاں نے اپنی کتاب سیرتِ احمد شہید میں کیا ہے۔ وہاں سے لُٹ کر راجستھان ٹونک پہنچے اگر چیکہ آبائی وطن باغپت، یو پی تھا ۔ نواب آف ٹونک نے ان کی تعظیم و تکریم کی۔ ان کے دادا محمد یعقوب مرحوم کو ریاستِ ٹونک کا منصبِ داروغہ عطا ہوا جس کی حیثئت ایک ریاست کے منتظمِ اعلی کی ہوتی ہے۔ والدِ محترم محمد یوسف صدیقی بھی کچھ عرصہ وزارت میں شامل رہے پھر جنگِ آزادی زور پکڑتی گئی۔ حالات تیزی سے بدلنے لگے۔ ملک آزاد ہوا۔ اقتدار چونکہ پست تہذیب اقوام کے ہاتھوں چلا گیا کل کے حاکم ، امرأ و شرفا محکوم بن گئے یوسف صدیقی اور ان کے خاندان کے حصے میں وہ ساری صعوبتیں آئیں جو کسی حاکم کے محکوم ہو جانے کے بعد پیش آتی ہیں۔

مجھے ان کی دوستی پر فخر ہے بلکہ یہ ان کی شرافت اور اعلی ظرفی ہے کہ نا چیز کو دوست کہتے ہیں۔ ان کا تعلق اس اولوالعزم خاندان سے ہے جس کی قربانیاں مسلمانانِ ہند کی تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ اس کے جاننے کے لیئے آپ کو ماضی قریب کے اس دور میں جانا ہوگا جب تقسیمِ ہند کے اندوہناک واقعات نے ہر دو طرف نفرت ، خون و فساد کے ذرئعہ جگہ جگہ قیامتِ صغری بپا کر رکھی تھی ۔ مسلمانانِ ہند خوف اور رنج سے چور مایوسی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ایسے وقت میں کسی کا کوئی اخبار رسالہ ادارہ یا کالج قائم کرنا وہ بھی ایسا جس کی شناخت مسلمان ہو ممکن نہ تھا۔ ایسے نازک وقت میں یوسف صدیقی مرحوم نے اپنی بچی کھچی جائداد اور کل پونجی داؤ پر لگا دی اور انگریزی ہفتہ وارRadiance کا قیام عمل میں لایا۔ میں یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ اس وقت اور کوئی مسلمان اخبار یا رسا لہ موجود تھا لیکن یہ دعوی نا قابلِ انکار ہے کہ Radiance مسلمانوں کا وہ پہلا انگریزی رسالہ تھا جو سارے ہندوستان کے مسلمانوں کی آواز بن گیا اور جماعتِ اسلامی کا ترجمان بھی۔ مسلم اور غیر مسلم سبھی اس کو پورے اعتماد و یقین سے پڑھتے تھے۔ اگر یوسف صدیقی مرحوم جیسے ایک دو افراد اور جماعت میں ہوتے تو آج یہ رسالہ Outlook یا India Todayکا مقابلہ کرتا لیکن جماعت کا نظم باصلاحیت افراد کا متحمّل نہیں ہوسکتا ۔ اسکی وجہ سے Radiance آج بھی چندوں کا محتاج ہے۔ اور قارئین کی تعداد چند سو رہ گئی ہے جو محض جماعت سے وابستگی کی مروّت میں لے لیتے ہیں۔ چند ایک افراد پڑھ بھی لیتے ہیں۔

والد نے ساری وراثت Radiance کے نام منتقل کر دی تھی. عقیل یوسف دس بھائی بہنوں کے آخری فرد تھے ان کے حصے میں خود تلاشِ روزگار آئی ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہی ایک انجینیرنگ ورکشاپ سے جد و جہد بقأ حیات کا آغاز کیا ۔ اگر چیکہ ایم اے اور انجینیرنگ ورکشاپ کا کوئی جوڑ نظر نہیں آتا لیکن جو مقصد ان دونوں قدروں کے درمیان تعلق کا کام کر رہا تھا وہ تھا حلال روزگار کا۔ اپنے بل بوتے پر حصول۔

جتنا جس دن کمایا پورا دوست احباب پر لٹا دیا اور اگلے دن پھر سے خالی جیب کام پر جٹ گئے ۔ یہی وطیرہ آج تک اپنایا ہوا ہے۔ جتنا سعودی میں کمایا سب یہیں لٹا دیا۔ جیسا کہ سارے قریبی رفقأ جانتے ہیں جن حالات میں آئے تھے انہی حالات میں خالی ہاتھ فرشتہٴ تقدیر کی پُر اعتماد دوستی کے سہارے لوٹ رہے ہیں۔ ان کا سعودی عرب آنا بھی ایسے ہی حالات میں ہوا۔ والدِ محترم ایمرجنسی کے دوران جیل کی صعوبتوں سے گزر رہے تھے ۔ مکمل لا قانونیت اور ڈکٹیٹر شپ کا دور تھا۔ نہ صرف قائدین بلکہ ان کے اہل ِِ خاندان بھی گرفتاریوں کی زد پر تھے۔ ایسے وقت میں عقیل یوسف نے سعودی عرب کی پناہ ڈھونڈھی ۔ یقینا یہ خوش فہمی رہی ہوگی کہ ایک مسلمان ملک مضبوط سہارا ثابت ہوگا لیکن زندگی کے 26 پُر شباب سال گزارنے کے بعد یہ سہارا ایک ریت کی دیوار سے زیادہ نہ نکلا۔ اب پھر اسی جگہ پناہ ڈھونڈھنے پر مجبور ہیں جہاں پریشان تو تھے لیکن اجنبی نہ تھے ۔ اب دونوں بھی ہیں ۔

خانوادۂ مجاہدِ پٹھان کوٹ کے لیئے نہ لٹنا نیا ہے، نہ دربدری اور نہ ہجرت۔ مجھے یقین ہے یہ جہاں بھی جا ئنگے۔ اللہ تعالی ان کا مددگار ہوگا ۔ نہ ان کی توکل و قناعت کم ہوگی اور نہ شمعِ فکر مدھم ہوگی۔
اللہ تعالی آپ کا معاون و مددگار ہو ۔ آمین۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے