Skip to content
 

احمد فراز : نظر کی بلندی نہ دل کی گہرائی

فراز کا تصورِ عشق اگر مونیکا اور کلنٹن پر مبنی ہے تو ہندوستان چھوڑیئے خود پاکستان کے چند شعراء کے سوا کوئی اس اثر کے تحت شاعری نہیں کر سکتا۔

5 / اکتوبر 98 کے اردو نیوز میں جناب احمد فراز کا انٹرویو نظر سے گزرا بقو ل وسیم بریلوی ،
میں چاہتا بھی یہی تھا وہ بے وفا نکلے
اسے سمجھنے کا کوئی تو سلسلہ نکلے

فراز صاحب کو سمجھنے کا یہ بہت اچھا سلسلہ تھا جس کے لئے نسیم ِ سحر جرال اور اطہر ہاشمی صاحبین شکریئے کے مستحق ہیں لیکن کہیں کہیں ایسے سوالات پوچھ لئے گئے ہیں جیسے کوئی بل کلنٹن سے پوچھ بیٹھے کہ مرثیہ اور غزل میں فرق کیا ہے ؟

کسی نے بہت سچ کہا ہے کہ غزل کہنا بہت مشکل فن ہے لیکن غزل پر گفتگو کرنا اس سے کہیں زیادہ مشکل کام ہے ۔ احمد فراز غزل کے بادشاہ ہیں اس سے کوئی انکار نہیں کیا جا سکتا بقول خامہ بگوِ ش کے کہ :
احمد فراز سترہ سال کے بالغ لڑکوں کے لئے غزل کہتے ہیں اور اپنی عمر کے 65 ویں سال میں بھی وہ سترہ سال میں اٹکے ہو ئے ہیں اور ہماری عقیدت دیکھئے کہ ہم اپنی عمر کی چالیسویں سال میں بھی وہی سترہ سال والی غزلیں گنگناتے ہیں ۔

جہاں تک غزل پر گفتگو کا تعلق ہے ضروری نہیں کہ ہر شاعر خامہ بگوش اور شمس الرحمٰن فاروقی کی طرح اس پر مہارت رکھتا ہو کیونکہ غزل پر گفتگو کر نے کے لئے شاعر ہونا لازمی نہیں۔ احمد فراز بہت اچھے شاعر ہیں ۔ یہاں تک وہ اکتفا کر لیتے تو بہت اچھا تھا اس سے آگے بڑھ کر انہوں نے ہندوستانی ، پاکستانی شاعروں پر ہی نہیں اردو زبان ، پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ ، غالب اور اقبال سبھی پر ظلم کیا ہے ۔ کچھ نمونے ملاحظہ ہوں:

موصوف نے ”ہندوستانی برا مان جاتے ہیں“ کہہ کر پیشگی سات خون معاف کر وا لئے ہیں اس لئے ہم ان کے دعوے کو تسلیم کرتے ہیں کہ ہندوستان میں شاعری بہت نچلی سطح کی ہو رہی ہے اس کی وجہ یہ کہ ہندوستان میں مکمل سرکاری بد سلوکی کے نتیجہ میں اردو جس تیزی سے تنزلی کا شکار ہو رہی ہے ایسے میں ” اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے “ کی قبیل کے چند شاعر آگے آ بھی رہے ہیں تو محض اپنی قوتِ تسخیر کی بنا پر۔
لیکن سوال یہ کہ سرکاری سرپرستی کے باوجود پاکستان میں تخلیقی عمل اور فکری ارتقا کا معیار کیا ہے؟ تخلیق کا کام پاکستان میں زیادہ ہو رہا ہے اس کی فکری بلندی خود انہی کے انٹرویو سے ملاحظہ ہو۔

نئی باتوں اور تبدیلیوں کا اثر عشق پر بھی پڑتا ہے تو ادب پر بھی پڑیگا ۔۔۔ ابھی جو مونیکا اور کلنٹن کا سلسلہ ہوا تو وہ بھی ادب کا موضوع بنے گا اور ل سیکس ، ٹیلیفون سیکس ، یہ اور وہ ۔۔۔
موصوف کا تصورِ عشق اگر مونیکا اور کلنٹن پر مبنی ہے تو ہندوستان کی بات چھوڑیئے خود پاکستان میں سوائے چند شعرا کے کوئی اس اثر کو قبول کر کے شاعری نہیں کر سکتا۔
اردو ادب جنسی کجروی یعنی بوالہوسی اور عشق میں فرق کرنے میں منفرد ہے اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ مونیکا ا ور کلنٹن اردو ادب پر کوئی اثر ڈالیں گے۔
برسہا برس پہلے جراتِ رند نے یہ سعی رائگاں کر لی۔
شوق نے مثنوی زہر عشق لکھ ڈالی۔
لیکن اردو ادب نے ایسی تمام ہوسناکیوں کو دفن کر دیا۔ اب اگر آپ کے ایسے اشعار کہ
” دیوار و در پلنگ و بستر دیکھتے ہیں “ وغیرہ
چند حسن زدہ سترہ سال کے نوجوانوں یا نامراد عشق کے غمزدوں کے کام آجائں تو اسے ادب نہیں کہتے ۔ یہ جنسی نا آسودگی کا ابال ہے جسے فکر و فن کا نام دیا جا رہا ہے۔
بقولِ سکندر علی وجد ” تقدس کے سہارے پل رہا ہے ذوقِ عریانی “

چونکہ آپ نے ادبِ عالیہ پر گفتگو فرمائی ہے اس لئے آپ کی زبان اور فکری بلندی دوہرانا لازمی ہے ۔ ملاحظہ ہو آپ نے کتنی ا دبی اور علمی مثالیں گفتگو میں برتیں ہیں۔

عورت پورا مرد مانگتی ہے تو شاعری بھی پوری توجہ چاہتی ہے خاص عمر کو پہنچ جائے تو کم عمر لڑکی سے شادی کرنے پر بات نہیں بنتی ( کیا بات نہیں بنتی؟)
علی سردار جعفری سب سے اچھے شاعر بے چارے مجروح ، فیض سے بھی پہلے ترقی پسند شاعری کی بنیاد ڈالنے کا دعویٰ کر بیٹھے تو آپ نے ان کو بھی نچلی سطح کے شاعروں میں شمار کر دیا چونکہ و ہ بھی آپ ہی کی برادری کے آدمی ہیں اس لئے ہم آپ کے آپسی معاملے میں دخل دینا مناسب نہیں سمجھتے۔
لیکن جہاں تک علی سردار جعفری کا تعلق ہے ان کو کلاسیکل اردو شاعری کے اساتذہ ہی نہیں بلکہ خود ترقی پسندوں نے کبھی اچھا شاعر نہیں مانا۔ اس نا کام نظریئے کے جو کچھ بھی باقیات و واجبات رہ گئے ہوں جنکے پاس حاصلِ عمر کے طور پر سوائے ایک دو مقبول غزلوں کے اور کچھ نہیں ہے انہی میں علی سردار جعفری بھی ہیں آپ انہیں ایک اچھا ادبی لیڈر ضرور کہہ سکتے ہیں لیکن شاعر نہیں۔
پتہ نہیں کبھی آپ نے ان کا کوئی کلام بھی پڑھا ہے کہ نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ نے ان کی صرف وہی نظم سنی ہو جو انہوں نے آ پ کے ہندوستان پر لعن طعن والی نظم کے تائیدی جواب میں کہی تھی جو یقیناً آپکو پسند آنی چاہئے تھی۔
کہاں پہ سطح پسندی ادب کو لے آئی
جہاں نظر کی بلندی نہ دل کی گہرائی
حفیظ میرٹھی

اردو زبان میں وسعت نہیں ، آپ نے فرمایا کہ اردو میں لفظ نہیں ملتے اور یہ کہ الفاظ داخل کر نے کی گنجائش نہیں۔
” اقبال بڑ ا اُپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے “
اقبال نے نئے نئے الفاظ اور نئی نئی ترکیبوں سے اردو کو ایک زندہ زبان بنا دیا اور ایسے ایسے الفاظ و تراکیب لائے جو نہ فارسی میں سما سکتی تھیں نہ عر بی میں ۔ اس سے پہلے ولی، نظیر اور میر نے بے شمار مثالیں قائم کر دی ہیں۔ اب اگر کوئی اپنے ” عجزِ اظہار “ اور ” قلتِ علم “ کو اردو کی تنگدستی پر محمول کرے تو سوائے اسکے کیا کہا جا سکتا ہے کہ :
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گلشن میں علاجِ تنگئی داماں بھی تھا

حقیقت تو یہ ہے کہ آزادی کے بعد کسی نے اردو کی وسعتوں کو ڈھونڈھنے کی جستجو بھی نہیں کی خود فیض نے بھی نہیں۔ دائرۃ المعارف اور جامعہ عثمانیہ کے کتب خانے جس کے کہ جوش اور اقبال بھی شیدائی تھے اگر پاکستان منتقل کر دیئے جاتے یا وہاں کے اہلِ ذوق و جستجو وہاں جا کر چند سال گزار آتے تو اردو آج جہانگیری زبان ہو جاتی۔ ہمیں کہنے دیجے کہ ” چونچ میں سورج “ قبول کر لو تو سوائے اپنی کم علمی کے اظہار کے اور کیا ہے؟

رہی بات احمد ندیم قاسمی کی تو وہ یقیناً عدیم ہاشمی و ظفر اقبال وغیرہ کے استاد ہیں لیکن بحیثیت ایک ہوشیار ادبی لیڈر کے نہ کہ شاعر کے جہاں استاد شاگرد سے اس کی ذہانت کا سود وصول کرنے کی کوشش کرتا ہے تو منہ کی کھاتا ہے۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے