Skip to content
 

ڈاکٹر عابد معز - شگوفہ کے تڑی پار مدیر (اوور سیز ایڈیٹر)

اتفاق سے میں ڈاکٹر عابد معز صاحب کو اس وقت سے جانتا ہوں جب سے وہ مجھے جانتے ہیں۔ شگوفہ ہماری آشنائی کا ذریعہ بنا۔
ہم دونوں ڈاکٹر مصطفٰے کمال صاحب کے حلقۂ ارادت میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی حیثیت با کمال خلیفۂ اول کی ہے ہم تو خیر ایک سیدھے سادے سے مرید ہیں جو دونوں ڈاکٹر صاحبان کے زیرِ سلوک ہیں۔ ہم ان کے مضامین اُس وقت سے پڑھتے آرہے ہیں جب ان پر مزاح قدرت کی طرف سے کبھی کبھی الہام ہوتا تھا۔ اب تو جب سے کالم لکھنے لگے ہیں ہر ہفتہ نازل ہونے لگا ہے لیکن چشمہ نزول کبھی ٹی وی ، کبھی اخبار ، اور کبھی گلی کا نکّڑ ۔ اِس سے مزاح میں کمی تو نہیں آئی البتہ فرق یہ ہوا کہ جسطرح آٹھ دس مہمان اچانک ٹپک پڑنے سے سالن کو پتلا کرنا پڑتا ہے اُسی طرح چونکہ ہفتہ پلک جھپکتے ہی آ جاتا ہے اور الہام ہر ہفتے ہونے سے تو رہا اسلئے وہ ہر کالم کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے مزاح کو پتلا کر کے ہفتے ہفتے میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ لیکن پتہ نہیں ایسا کتنا ذخیرہ ہیکہ ہر بار ایک نیا مزاح لے کر حاضر ہو جاتے ہیں۔

جواوصاف انسان کو جانور سے مختلف کرتے ہیں ان میں ایک ہنسنا اور مسکرانا بھی ہے۔
یوں تو اور بھی اوصاف ہیں جن کیوجہ سے انسان اشرف المخلوقات کہلاتا ہے جیسے جانور چونکہ قوّتِ گویائی نہیں رکھتا اسلئے قطعِ کلامی نہیں کر سکتا ، بغیر علم و مطالعے کے بات پوری سنے بغیر بیچ میں بول نہیں سکتا۔ بلا ضرورت مشورے اور نصیحتیں نہیں کر سکتا خیر ۔۔۔۔ انسان اور جانور کے درمیان اِس فرق کو باقی رکھنے کے مشن میں عابد معز کا بڑا کنٹری بیوشن ہے ۔
وہ مزاح کے ذریعے ہنسی اور مسکراہٹ پیدا کرتے ہیں۔ سمجھ لیں کہ جس کو ہنسی آ گئی یا کم سے کم مسکرا دیا اپنی عزّت بچا گیا۔ کئی تو ایسے ہیں جو سمجھے بغیر بھی مسکرا دیتے ہیں تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ ۔۔۔۔
کیونکہ اچھی شاعری کی طرح اچھا مزاح بھی سب کے پلّے نہیں پڑتا۔ اِسے سمجھنے کی صلاحیت قدرت کا ایک حسین عطیہ ہے۔ کئی تو بقول غوث خوامخواہ صاحب کے :
”جلاّب یا قبض کے مریض ہوتے ہیں جو مسکرا کر نہیں دیتے“۔

یوں بھی ہنسی ایک متعدّی مرض ہے۔ کسی کو روتے دیکھ کر رو دینا ممکن نہیں لیکن کسی کو ہنستے دیکھ کر بغیر پس منظر جانے ہنسی میں ساتھ دینا آسان ہے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ ہم کسی کی تعزیت کیلئے گئے اور بہت کوشش کے باوجود ایک بھی آنسو کا قطرہ نہیں نکال سکے۔ ہمارے ایک دوست نے ایک فارمولہ دیا کہ ایسے وقت اپنے ہی کسی قریب ترین عزیز کے انتقال کا سین چشمِ تصوّر سے دیکھنے کی کوشش کرو خود بخود رونا آ جائے گا۔ ہم نے یہ فارمولہ آزمایا بھی۔ ایک دوست کی خوش نصیبی سے اُن کی اہلیہ چل بسیں۔ ہم تعزیت کیلئے پہنچ گئے اور اپنی بیوی کے انتقال کا تصوّر کرنے لگے۔ پھر کیا تھا۔ بیٹھے بٹھائے اگر کسی کی لاٹری نکل آئے تو وہ بھلا کیوں روئے۔ ہم آزادی کے تصوّر سے باؤلے ہونے لگے۔ سنا ہے خوشی میں بھی کبھی آنسو نکل پڑتے ہیں آنسووں کو ہم نے خوشی کا لاکھ واسطہ دیا لیکن کم بخت کسی طرح نکلنے تیار نہ ہوئے بلکہ ہنسنے ناچنے اور گانے جی کرنے لگا ۔ مجبوراً ہم تعزیتی تقریب سے شارٹ بریک لے کر باہر نکل گئے۔

یہ دراصل عابد معز جیسے لوگوں کے مضامین پڑھنے کا اثر ہیکہ موقع اچھا ہو یا بُرا ہر موقع پر مزاح کا پہلو تلاش کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے۔ عابد معز کا بھی ایک پسندیدہ موضوع بیویاں ہیں۔ یہ جس طرح بیویوں کے ظلم کو بے نقاب کرتے ہیں انہیں پڑھ کر کئی بہادر مردوں کی مردانگی عارضی طور پر کچھ دیر کیلئے جاگ اُٹھتی ہے۔ اُنہیں احساس ہوتا ہیکہ وہ کائنات کی کتنی مظلوم ترین ہستی ہیں۔
عابد معز کے فن میں ڈرامائیت اور افسانویت ہے۔ مزاح پیدا کرنے اکثر وہ کرداروں سے کام لیتے ہیں۔ ان کے زیادہ تر کردار بیویاں، بچّے یا وہ دوست ہوتے ہیں جنکی خود ساختہ دانشوری میں پوشیدہ حماقتوں سے جو مزاح پھوٹتا ہے اُسے پڑھ کر وہ سارے کردار ہمیں اپنے اطراف گھومتے نظر آتے ہیں اور پڑھ کر ہم زیرِلب مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتے لیکن پھر بھی کچھ دانشور ایسے ہوتے ہیں جو ہرگز نہیں مسکراتے۔
ایسے لوگوں کیلئے بھی عابد معز مسیحا کا کام کرتے ہیں کیونکہ پیشے سے خوراک کی راشننگ کے ڈاکٹر ہیں یعنے Dietition ہیں۔ دنیا بھر میں خوراک کی قلّت یا بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ذمہ دار ہم انہی کو ٹھہرا سکتے ہیں۔ جب تک یہ لوگ نہ تھے ہم ہر چیز کو اللہ کی نعمت سمجھ کر چٹ کر جاتے تھے۔ اب تو اِن حضرات نے مریضوں کو اُنکے دل پسند توہمّات سے اتنا گمراہ کر دیا ہیکہ سب فلسفے بھول کر ہر ایک شخص صرف ہاضمے اور پیٹ کے فلسفے کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ حالانکہ جِس طرح ایک شادی شدہ پھر سے کنوارا نہیں ہوسکتا اُسی طرح ایک بار جو پیٹ آگے نکل آئے وہ دوبارہ پیچھے نہیں لوٹ سکتا لیکن پھر بھی اِس سعئ لاحاصل کی تگڑی فیس دے کر لوگ اِن کے پیچھے بھاگتے ہیں۔

عابد معز کے مزاح کو ہم Vegetarian مزاح کہہ سکتے ہیں۔ ان کا مزاج پہلی ملاقات میں خشک ہوتا ہے ۔ نہ وہ چکنی باتیں کر سکتے ہیں نہ چکنی گالیاں دے سکتے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ مہذّب ہونے کی وجہ سے ان کی تحریروں میں نہ جنسی مسالہ ہوتا ہے نہ گرما گرم اسکینڈل اور نہ یہ کسی فلمی یا ماڈلنگ کی حسینہ کی اداؤں پر قلمی رال ٹپکاتے ہیں۔
عابد معز کے پاس مختصر لکھنے کا وقت نہیں ہوتا۔ وہ کسی واقعہ کے تاثّر کو ایک جملۂ حاصل میں بیان نہیں کرتے بلکہ آپ کو اُس پورے ماحول میں live لے جاتے ہیں جس کے پس منظر میں اُنہیں مزاح کا پہلو ملا۔ اِس سے عام قاری کو یہ اندازہ تو ہوتا ہیکہ روزمرّہ کے معمولی واقعات میں بھی زندہ دلی کے ہزار پہلو نکلتے ہیں جن کو مزاح نگار بآسانی کسی مشّاق مچھلی کے شکاری کی طرح پکڑ لیتا ہے لیکن عام آدمی محسوس بھی نہیں کرپاتا۔

عابد معز مزاح ایسا لکھتے ہیں جیسے گُڑ پھلّی کھاتے ہوئے اپنی بیگم سے مشورے کرتے ہوئے لکھ رہے ہوں۔ بلکہ یوں بھی لگتا ہے جیسے ان کی بیگم انہیں مزاح ڈکٹیٹ کروا رہی ہوں۔ عابد معز کتابوں سے زیادہ انسانوں کو پڑھتے ہیں اسلئے ان کی نثر میں برجستگی ، نفسیات، باریک بین مشاہدہ اور چھوٹے چھوٹے جملوں کی لطافت پائی جاتی ہے۔ مرکّب جملوں اور فصیح و بلیغ الفاظ کے ذریعے قاری پر اپنی قابلیت کی دھونس جمانے کی کوشش نہیں کرتے۔ ان کی یہی بات ہمیں ہی نہیں ہر قاری کو اچھی لگتی ہے کہ وہ آسان ، سلیس اور شگفتہ زبان میں لکھتے ہیں۔
غالباً بیوی اور بچوں کو اپنا آئیڈیل قاری بنا لیا ہے شائد یہی وجہ ہیکہ لوگ ان کی زبانی باتوں کو دیر میں سمجھتے ہیں اور تحریروں کو جلدی سمجھ لیتے ہیں۔ ان کی زبان کو نعیم جاوید کی جِنّاتی زبان کا توڑ کہا جا سکتا ہے۔ پھر بھی آپس میں خوب گاڑھی چھنتی ہے۔ بلکہ نعیم جاوید کی گمراہی میں عابد معز کے مشورے شامل ہیں۔ جسکے سبب نعیم جاوید مجھ سے فصیح اردو میں اختلاف کرتے ہیں جبکہ صداقت کا فصاحت مآب ہونا ضروری نہیں۔
دونوں ایک دوسرے کی زبان کے بارے میں اِس بات پر متفق ہیں کہ ادب میں یہ زبان باقی نہیں رہے گی ۔ نعیم جاوید بلاغت مآب ہیں خواص کیلئے لکھنے کو اردو کی شان سمجھتے ہیں جبکہ عابد معز عام انسانوں میں اردو پڑھنے کا شوق و ذوق پیدا کرتے ہیں۔ گویا نعیم جاوید ٹیسٹ کرکٹ کو اصل کرکٹ سمجھتے ہیں اور عابد معز ون ڈے اور ٹونٹی ٹونٹی کو پسند کرتے ہیں۔ اور اس طرح کئی سنچریاں بناچکے ہیں۔

”واہ حیدرآباد “ ان کی پہلی سنچری تھی لیکن زیادہ مقبولیت ”سگ گزیدہ “ کو ملی۔
یہی بات ہم نے مجتبیٰ حسین میں محسوس کی جسکی وجہ سے عہدِحاضر کے کئی دوسرے مزاح نگاروں کے مقابلے میں عام قاری مجتبیٰ حسین کو اپنے سے زیادہ قریب محسوس کرتا ہے۔ عابد معز کے ہاں مزاح کی موسلادھار بارش نہیں ملتی۔ نہ طنز کی بجلیاں گراتے ہیں اور نہ قہقہوں کی آندھیاں چلاتے ہیں۔ بوندا باندی سے کام لیتے ہیں۔ ان کے مضامین کی ہلکی ہلکی پھوار کا لطف لئے بغیر جوسرسری طور پر گزر جاتے ہیں انہیں ان کی مزاح کی لطیف خنکی کا احساس بھی نہیں ہوتا کیونکہ اتنے مزاح سے قاری کا ذہن نہیں بھیگتا۔ بالخصوص سیاسی روزناموں کے کالم پڑھ کر تو بالکل نہیں بھیگتا۔ کیونکہ پہلے صفحے پر جہاں لالو پرساد یادو جیسے طاقتور مزاح نگار کے بیانات ہوں اور شہر کی خبروں والے صفحے پر حیدرآبادی قائدین کے اختلافات کے دلچسپ قصّے ہوں جن میں ہجو بھی ہوتی ہے تضحیک و تمسخر بھی، لطیفے بھی ہوتے ہیں اور کامیڈی بھی، ہزل اور پھکّڑپن بھی ہوتا ہے اور ایک دوسرے کے خلاف بھونڈی فقرہ بازی کے مقابلے بھی۔ ایسے کانوں کو پھاڑدینے والے پاپ میوزک کے بازار میں عابد معز بانسری لے کر بیٹھتے ہیں یہ انہی کا دل گردہ ہے۔ لیکن ہمت ہارنے کی ضرورت نہیں۔ یہ پاپ میوزک وقتی ہے جلد ختم ہوجائے گی لیکن ان کے مزاح کی بانسری ہندوستانی شاستریہ سنگیت کا طرح ادب میں ہمیشہ باقی رہے گی۔

عابد معز ایک حق پرست انسان ہیں لیکن مشکل یہ ہیکہ جو کہہ دیا اسی کوحق سمجھتے ہیں۔
جتنی جلدی میں لوگ دوست بناتے ہیں عابد معز اس سے کم وقت میں کسی کو دشمنی کے قابل نہیں رکھتے۔ غصّہ جلدی آتا ہے اور دیر تک رہتا ہے۔ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ بندے سے جب دوبارہ ملنا ہی نہیں ہے تو جو ابھی سنا سکتے ہیں سنا ڈالتے ہیں۔ ان میں انتظامی صلاحتیں بے پناہ ہیں۔ انڈین ایمبیسی اسکول کی مینیجمنٹ کیمٹی، حیدرآباد کے چار سو سالہ جشن، شگوفہ اور ڈاکٹر مصطفےٰ کمال صاحب کے ریاض میں استقبالیہ اور ایسے ہی دوسرے کئی اہم مواقع پر ہم نے دیکھا کہ یہ مزاح نگار سے کہیں زیادہ ایک منتظم بلکہ انجمن ساز انسان ہیں۔
اگر سعودی عرب میں اردو ادب کیلئے کوئی اسمبلی یا پارلیمنٹ ہوتی تو بلا مقابلہ جیت کر آنے کیلئے ہر ایک سے مقابلہ کرتے۔ شاعروں سے دوستی اور شاعری سے الرجی ہے۔ اگر کسی مشاعرے کی کھلّی اڑوانا ہو تو ان کو مشاعرے کی صدارت دی جا سکتی ہے۔ غزل سننے سے پہلے ہر شاعر کو عزّت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔ تحت میں آسانی سے سن لیتے ہیں لیکن ترنّم سن کر چہرے پر قبض کے آثار طاری ہونے لگتے ہیں۔ اسلئے مشاعروں سے دور رہتے ہیں۔ ویسے مزاجاً تنہائی پسند انسان ہیں۔ خراب ہونا ہی ہے تو اپنی ہی صحبت میں رہ کر کیوں نہ ہوں یہ ان کا اصول ہے ویسے اگر شاعری کرتے تو یاس یا اداس جیسا تخلّص ضرور اختیار کرتے۔

ہم جن باتوں پر ان کے ہم خیال ہیں ان میں اردو کا مستقبل ، اردو والوں کی سمجھ بوجھ، اردو کی روٹی کھانے والے ٹیچروں ، ادیبوں، کمرشیل شاعروں ، اکیڈیمیوں، اداروں ، رسائل و اخبارات کے مالکان کا اردو کے ساتھ رویّہ ہے۔ ہم دونوں سو فیصد مایوس ہیں وہ پچاس فیصد اور ہم پچاس فیصد۔ لیکن اسی ڈھل مل یقین کے ساتھ پابندی سے لکھے جا رہے ہیں۔ یہ افواہ ہے کہ عابد معز اردو دنیا سے انتقال فرما کر انگریزی کو پیارے ہونے والے ہیں۔ پتہ نہیں یہ سانحہ ہے کہ خوشخبری، اطلاع ہے یا دھمکی۔ جو بھی ہے ہمیں اتنا یقین ہے کہ اردو کے پڑھنے والے چاہے سارے ختم ہوجائیں لیکن ایک بار جسے لکھنے کی لت پڑ جائے وہ کبھی اردو سے دور نہیں جا سکتے ایک دن یہ کہنے پر خود ہی مجبور ہوتے ہیں :
”چھوڑ کر تیرے پیار کا دامن یہ بتا دے کہ ہم کدھر جائیں“۔
لیکن بہرحال اردو کی موجودہ صورتِ حال سے بہت مایوسی ہوتی ہے۔ اردو کا پڑھنا اب فرضِ کفایہ بن گیا ہے ۔ اور لکھنا رسمی دعائے خیر و مغفرت کی طرح ہوگیا ہے۔ جو کہ سارے محلے سے کوئی دو چار افراد بھی ادا کردیں تو سب کی طرف سے ادا ہو جاتا ہے۔
نہ کوئی لکھنے والا سنجیدہ ہے اور نہ پڑھنے والا۔
جتنے گھروں میں انگریزی اخبارات کے ساتھ اردو اخبار بھی آتا ہے وہ اُن بزرگوں کیلئے ہوتا ہے جو عمر کے آخری پیٹھے میں ہیں۔ اخبار ڈالنے والے اکثر ان بزرگوں کی عمر کی دعا کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے بعد اردو اخبار بند کر دیا جاتا ہے۔ مزاح کے میدان میں تو اور بھی مایوسی ہوتی ہے۔ رسالے یوں تو کئی نکل رہے ہیں لیکن اگر تخلیقِ تازہ تلاش کی جائے تو بہت مایوسی ہوتی ہے۔ البتہ شاعری خوب ہورہی ہے لیکن اکثر ہجو، پھکّڑپن بلکہ لچّر پن سے پُر ہوتی ہے زیادہ تر موضوعات وہی گِھسے پٹے ہوتے ہیں یعنے لیڈر، ساس، دوسری شادی ، رشوت وغیرہ۔ اکثر لطیفوں کو ردیف قافیے میں باندھ کر مزاحیہ شاعری کا نام دے دیا جاتا ہے۔ دلاور فگار اور ضمیر جعفری کے انتقال کے بعد جو خلاء پیدا ہوا ہے عابد معز اور نعیم جاوید کے ساتھ کئی بار اِس خلا ء کو پُر کرنے کے موضوع پُر گفتگو ہوئی لیکن ابھی ہم میں سے کسی کا بھی دو چار سال اور ملازمت چھوڑ کر جانا ممکن نہیں آخر میں یہی طئے پایا کہ ابھی تو دو چار اور مزاح نگار بقیدِ حیات ہیں اللہ تعالیٰ ان کی عمر دراز کرے۔ جب تک خلاء مکمل نہ ہوجائے اور میدان پورا خالی نہ ہوجائے اُس وقت تک کیلئے اِس گفتگو کو ملتوی کرنا بہتر ہے۔

مزاح لکھنا لوگ آسان سمجھتے ہیں۔ رشید احمد صدیقی مرحوم کہتے ہیں کہ:
” مزاح ایک سفلی عمل ہے عامل اگر ماہر نہ ہوتو عمل اُسی پر پلٹ پڑتا ہے“۔
اسی کے نتیجے میں مضحک ، رکیک اور عامیانہ پن پیدا ہو جاتا ہے۔ مصنّف یا شاعر اپنی دانست میں تو بہت دور کی کوڑی لاتا ہے لیکن اس میں واقعتاً نہ کوئی تخلیقی عنصر ہوتا ہے نہ کوئی گہرائی۔ عہدِ حاضر میں مزاح کے نام پر طنز چھایا ہوا ہے۔ مزاح میں طنز کی مقدار سالن میں نمک کی طرح ہونی چاہیے۔ مزاح نگار طنز کے ذریعے ماحول کی دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھتا ہے۔ معاشرے کے بے تُکے پن، کوتاہیوں اور حماقتوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ لیکن شائستگی کے ساتھ۔
یاد رہے طنز نگاری تفریحِ طبع نہیں بلکہ اصلاح کا فن ہے۔ مذاق اور اصلاح ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ طنز دراصل ایک ماہر سرجن کے نشتر کا کام کرتا ہے۔ اسکا زیادہ گہرا ہونا یا کم گہرا ہونا دونوں صورتوں میں نقصان دہ ہے۔ مریض کے جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ مزاح بے ہنگم ، کام چلاؤ ، استہزاء کا ایک مرکب مضمون بن جاتا ہے۔
اِس پیمانے پر جب ہم عابد معز کا ایک تنقیدی جائزہ لیتے ہیں تو اِس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ عابد معز طنز اور مزاح کے تناسب کو قائم رکھنے میں کامیاب ہیں۔ غالباً تناسب باقی رکھنے کا سلیقہ ان کو اپنے ڈاکٹری کے پیشے سے ملا ہے۔ عابد معز مختلف اخبارات و رسائل میں ہفتہ وار کالموں کے ذریعے جتنا کثرت سے لکھ رہے ہیں ظاہر ہے ہر مضمون ایک آورد کی کیفیت سے بھر پور شاہکار ہونے سے تو رہا البتہ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جس طرح پطرس نے بے شمارمضامین لکھنے کے بعد ہی اُن دس مضامین کا انتخاب کیا جنکی وجہ سے مزاحیہ ادب کی تاریخ میں ان کا نام ناقابلِ فراموش بن گیا۔ یہی حرکت غالباً عابد معز کرنے جا رہے ہیں۔ جب تک وہ دس مضمون مکمل نہیں ہونگے وہ لکھتے رہیں گے۔

عابد معز کے مضامین پڑھ کر ایسا احساس ہوتا ہیکہ اگر وہ مزاحیہ ڈرامے کی صنف کو بھی اختیار کریں تو ادب میں ایک نیا اضافہ ہو سکتا ہے۔
جس طرح احمد جلیس مرحوم نے آل انڈیا ریڈیو حیدرآباد پر ”نیرنگ “ پروگرام میں ”چھوٹی چھوٹی باتیں “ نامی سیریل کے ذریعے مزاح کا ایک نیا میدان دریافت کیا تھا اسی طرح عابد معز کے فن میں بھی وہ عنصر موجود ہے ۔ وہ بیانیہ سے کم اور ڈائیلاگ اور کرداروں سے زیادہ مزاح پیدا کرتے ہیں۔ جیسے ان کے مضامین ”یہ نہ تھی ہماری قسمت“ جو عرف ”عقدِ ثانی “سے زیادہ مشہور ہے اور ”نام میں کیا رکھا ہے“ میں بیوی سے نوک جھونک کے مکالمے ایک ڈرامے میں سموئے جاسکتے ہیں۔

عابد معز معاشرے کے ہر رِستے ناسور پر نشتر چلاتے ہیں جیسے جوڑا جہیز ، فضول خرچی، بغیر مطالعے کے گفتگو، ریاکاری (جسکو حیدرآباد کی زبان میں ”خالی پیلی کی شان“ کہتے ہیں)۔ افراد کی بے مقصدیتِ حیات پر وہ بہت کڑھتے ہیں پھر ہنسا تے ہیں۔ عابد معز کے مضامین کا رُخ مقصدی اوراصلاحی ہے اگرچہ کہ وہ نہ مذہبی ہیں نہ مسلکی، نہ سیاسی نہ نظریاتی ۔ البتہ جب نعرہ تکبیر پارٹی پر کوئی تنقید کرے تو یہ بھی اللہ اکبر کہہ کر میدان میں کود پڑتے ہیں۔ جس سے ہمیں یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان کے مزاح کے inspiration کا چشمہ و منبع کس قسم کے لوگوں سے پھوٹتا ہے۔

حیدرآباد عابد معز کی قوّت بھی ہے اور کمزوری بھی۔ حیدرآباد ان کی تحریروں میں جگہ جگہ جھلکتا ہے۔ان کے زیادہ تر کردار پرانے شہر کی سماجی و تہذیبی علامت ہیں۔ یہ اور بات ہے پرانے شہر میں اب سارے نئے لوگ آکر بس گئے ہیں کیونکہ پرانے شہر والوں نے بنجارہ ہلز اور ٹولی چوکی وغیرہ کی طرف ہجرت کرلی ہے۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے